ابنا: یہ ملا قات دوحہ میں امیرقطرکے دفتر میں انجام پائی ہے ۔ اگر چہ تمیم بن حمد اور جان برنان کے مذاکرات کے محور کےبارے میں کوئی تفصیل سامنے نہيں آئی ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ فریقین کےدرمیان مذاکرات کا موضوع ، شام اور اس سلسلے میں امریکی صلاح ومشورے تھے ۔ قطر جنوبی خلیج فارس کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس نے شام کے بحران کے وقت سے وائٹ ہاؤس کے حکام کے نزدیک ایک خاص مقام پالیا ہے۔ شام کے مسئلے میں قطر گذشتہ 32 مہینوں کے دوران شام کے بارے میں واشنگٹن کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے امریکہ کے ایک علاقائی مہرے میں تبدیل ہوگيا ہے ۔ اور شام کے مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد ، یقینا امریکہ کے ہری جھنڈی دکھانے اور اس کے صلاح ومشورے پر انجام پارہی ہے ۔ اس وقت ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ جان برنان کی امیر قطر سے ملاقات، خفیہ تجاویز کے دائرے میں انجام پائی ہے ۔ خاص طور پر بعض سیاسی حلقوں کا خیا ل ہے کہ چار مہینہ قبل قطر میں اقتدار کی منتقلی کا جو عمل انجام پایا اور شیخ حمد کے دوسرے بیٹے شیخ تمیم اقتدارکی کرسی پر براجمان ہوئے تو یہ سب کچھ امریکی ایما پر انجام پایا ہے ۔ اس وقت قطر، بعض علاقائی بحرانوں میں ایک مداخلت کرنے والے فریق کی حیثیت سے ظاہر ہوا ہے ۔ شام اور عراق میں بد امنی سے متعلق مسائل اور اسی طرح علاقے کے بعض ملکوں میں سرگرم دہشت گردوں کے اخراجات سے متعلق مسائل میں قطر کانام ، امریکہ جیسے ملکوں کے ساتھ بہت لیا جاتا ہے ۔ نہ صرف شام اور عراق حتی افغانستان اور طالبان کے مسئلے میں بھی قطرکا نام میڈیا میں لیا جاتا ہے ۔ چند ماہ قبل دوحہ میں قطر کا دفتر کھولے جانے کے بعد امریکی نمائندوں نے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ قطر میں ملاقات کی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قطر نے واشنگٹن اور طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادار کیا ہے ۔ بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ قطر نے حالیہ مہینوں ميں امریکہ اور علاقے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے درمیان دلالی کا کام کیا ہے لیکن اس مسئلے سے قطع نظر امریکہ نے گذشتہ چند برسوں کے دوران قطر کو ، علاقے میں اپنی فوج کی تعیناتی کے ایک مرکز کے طور پر دیکھا ہے ۔ اس وقت بھی قطر ، مشرق وسطی اور وسطی ایشیاء ميں امریکی فوج کا اہم مرکز ہے ۔ قطر کہ جو اس وقت سعودی عرب کا حریف ہے اس کوشش میں ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی روابط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بلند پروازی کے لئے مزید حالات سازگار بنائے ایسی پرواز جو شاید اسے اس کے مقصد تک پہنچا نہ سکے کیوں کہ سعودی عرب کے سینیئر رہنما بدستور خود کو جنوبی خلیج فارس کا لیڈر سمجھتے ہیں ۔
.......
/169